متعلقہ مضامین

مزید مضامین

فون کال: آجر کیا پوچھتا ہے اور آپ کیا کہیں (برطانیہ)

برطانیہ میں باورچی خانے، صفائی اور گودام کے کام ایک فون کال پر طے ہوتے ہیں۔ دس سوال، ہر ایک کا مطلب اور جواب، وہ دو سوال جو آپ کو پوچھنے چاہئیں — اور وہ ایک جملہ جو کال بچا لیتا ہے۔

فون کال: آجر کیا پوچھتا ہے اور آپ کیا کہیں (جرمنی)

جرمنی میں چھوٹے کام ایک ہی فون کال پر طے ہوتے ہیں، اور وہ کال انہی دس سوالوں کے گرد گھومتی ہے۔ ہر سوال جرمن میں، اس کا مطلب، جواب اور بولنے کا طریقہ — اور وہ ایک جملہ جو کال بچا لیتا ہے۔

کاغذات نہیں ہیں؟ برطانیہ میں آپ کا راستہ

برطانیہ میں کوئی عام معافی نہیں اور کوئی ریگولرائزیشن اسکیم نہیں۔ Private Life کا راستہ بالغوں سے بیس سال سے زیادہ مانگتا ہے۔ یہ صفحہ صاف بتاتا ہے کہ اصل میں کیا موجود ہے — اور غیر منظم مشیر کو پیسے دینا کیوں ضائع ہیں۔

کاغذات نہیں ہیں؟ جرمنی میں آپ کا راستہ

جرمنی میں ایسی کوئی اسکیم نہیں کہ کافی عرصہ رہنے سے کاغذات بن جائیں۔ جو راستہ قانون دیتا ہے وہ دفعہ 25b ہے: چھ سال (بچے کے ساتھ چار)، A2 جرمن، اور بنیادی طور پر کام سے گزر بسر۔ اور جھوٹی شناخت یہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے۔

برطانیہ میں مزدور کے حقوق: اجرت، پے سلپ، اور اگر پیسے نہ ملیں

برطانیہ میں کم از کم اجرت عمر پر منحصر ہے — اپریل 2026 سے 21 سال اور اوپر کے لیے £12.71۔ یہ صفحہ بتاتا ہے کہ پے سلپ پر کیا لکھا ہونا لازم ہے، اور Acas سے 100 سے زیادہ زبانوں میں مفت مشورہ کیسے ملتا ہے۔

برطانیہ (UK) جانے کے قانونی راستے: پوائنٹس سسٹم کی مکمل گائیڈ

برطانیہ کے بارے میں ایک بات پہلے کہہ لینی چاہیے، کیونکہ باقی سب کچھ اسی پر کھڑا ہے: برطانیہ میں کاغذ بننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسپین جیسا Arraigo نہیں، اٹلی جیسی کوئی وقتاً فوقتاً آنے والی معافی نہیں، کوئی ایسا اصول نہیں کہ آپ چپ چاپ کچھ سال گزار لیں اور پھر قطار میں لگ جائیں۔ جو شخص بغیر ویزے کے پہنچ گیا، یا جس کا ویزا ختم ہو گیا اور وہ رک گیا، اس کے لیے آگے کا دروازہ عملاً بند ہے۔

یہ بات لکھنا خوشگوار نہیں، مگر اسے چھپانا زیادہ نقصان دہ ہے۔ برطانیہ برصغیر کے لوگوں کی پہلی پسند رہا ہے — زبان مشترک ہے، برادری موجود ہے، رشتے پرانے ہیں۔ اسی واقفیت کی وجہ سے لوگ فرض کر لیتے ہیں کہ وہاں کوئی نہ کوئی گنجائش نکل ہی آئے گی۔ آج کا برطانیہ پوائنٹس سسٹم پر چلتا ہے، اور اس کے اصول ہر سال ڈھیلے نہیں، سخت ہو رہے ہیں۔

تو ذیل میں وہ راستے دیکھتے ہیں جو واقعی موجود ہیں، اور پھر وہ صورتحال جو موجود ہے مگر جس کا کوئی حل نہیں۔

Skilled Worker ویزا — سپانسر شپ والی نوکری

یہ برطانیہ کا اصل ورک ویزا ہے، اور اس کی بنیاد ایک سادہ سی شرط ہے: برطانیہ کی کوئی لائسنس یافتہ کمپنی آپ کو نوکری دے اور آپ کو سپانسر کرے۔ اس سپانسرشپ کا کاغذ Certificate of Sponsorship کہلاتا ہے، جسے مختصراً CoS کہا جاتا ہے۔ لائسنس ہوم آفس دیتا ہے اور کمپنیوں کی فہرست عوامی ہے — یعنی آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی کمپنی سپانسر کر بھی سکتی ہے یا نہیں۔

اس کے ساتھ تین شرطیں چلتی ہیں: نوکری منظور شدہ ہنر کی سطح کی ہو، تنخواہ مقررہ حد سے اوپر ہو، اور آپ انگریزی کا ثبوت دیں (IELTS یا اس جیسا منظور شدہ امتحان)۔ تنخواہ کی عمومی حد اِس وقت تقریباً £38,700 کے لگ بھگ ہے، اور کمی والے پیشوں اور نئے گریجویٹس کے لیے کچھ رعایتیں موجود ہیں۔ اس عدد کو پتھر پر لکیر نہ سمجھیں — برطانیہ میں یہ حدیں بار بار بدلتی ہیں، اور درخواست سے پہلے gov.uk پر تازہ عدد دیکھنا لازم ہے۔

CoS بیچنے والے — یہاں سب سے زیادہ لوگ لُٹے ہیں

برصغیر میں سپانسرشپ کا کاغذ لاکھوں روپے میں بکتا ہے۔ اشتہار کبھی اتنا صاف نہیں ہوتا؛ بات "نوکری کا بندوبست”، "کمپنی سے سیٹنگ” یا "پروسیسنگ” کے نام سے شروع ہوتی ہے۔ نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے — پیسے آپ کے، خطرہ آپ کا۔

یاد رکھیں کہ سپانسرشپ بیچنا برطانیہ میں جرم ہے۔ پکڑے جانے پر ویزا منسوخ ہوتا ہے اور آئندہ کے لیے پابندی لگ جاتی ہے۔ اور خطرہ صرف آپ کی اپنی نیت پر منحصر نہیں — جن کمپنیوں کے لائسنس منسوخ ہوئے، ان کے وہ ورکرز بھی رل گئے جنہوں نے پوری قانونی سمجھ کے ساتھ نوکری قبول کی تھی۔ آپ کی قانونی حیثیت آپ کے آجر کی قانونی حیثیت سے بندھی ہوتی ہے، اور یہ بات درخواست سے پہلے سوچنے کی ہے، بعد میں نہیں۔

یہ دھندا سب سے زیادہ کیئر ورک کے شعبے میں چلا۔ اور اب حکومت نے بیرونِ ملک سے نئے کیئر ورکرز کی بھرتی کا راستہ ہی بند کر دیا ہے۔ اگر آج بھی کوئی آپ کو "برطانیہ کیئر ورکر ویزا” بیچ رہا ہے، تو وہ ایک ایسی چیز کے پیسے لے رہا ہے جو موجود نہیں۔

اسٹوڈنٹ ویزا — اب پہلے جیسا نہیں

پڑھائی کا راستہ اب بھی کھلا ہے اور اب بھی سب سے صاف ستھرا ہے۔ آپ کو کسی لائسنس یافتہ یونیورسٹی یا کالج کا داخلہ چاہیے، جس کا کاغذ CAS کہلاتا ہے، اس کے ساتھ فیس اور رہنے کے خرچ کا ثبوت، اور انگریزی کا ثبوت۔ پڑھائی کے دوران ہفتے میں بیس گھنٹے تک کام کی اجازت ہوتی ہے اور چھٹیوں میں فل ٹائم۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد Graduate Route پر کچھ عرصہ کام کرنے کی اجازت ملتی رہی ہے، جس میں لوگ سپانسر ڈھونڈتے ہیں۔ حکومت اس کی مدت کم کرنے کی تجاویز پر کام کرتی رہی ہے، اس لیے اسے مستقل سمجھ کر پورا خاندانی منصوبہ بنانا خطرناک ہے۔

اور ایک بڑی تبدیلی، جس سے ہمارے ہاں کے بہت سے لوگ اب تک بے خبر ہیں: اب زیادہ تر طلبہ اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ نہیں لا سکتے۔ صرف ریسرچ کی سطح کے کچھ پروگراموں میں یہ اجازت باقی ہے۔ جو شخص آج بھی یہ سوچ کر تیاری کر رہا ہے کہ ماسٹرز کے ساتھ بیوی بچے چلے جائیں گے، وہ دو سال پرانی معلومات پر زندگی کا فیصلہ کر رہا ہے۔

جعلی کالجوں اور "مفت داخلہ، ویزا گارنٹی” والے ایجنٹوں سے بچیں۔ داخلہ صرف اسی ادارے کا کام آتا ہے جس کے پاس لائسنس ہو، اور یہ آپ خود چیک کر سکتے ہیں۔ ویزے کی گارنٹی دنیا میں کوئی نہیں دے سکتا — نہ ایجنٹ، نہ یونیورسٹی۔

برطانیہ (UK) جانے کے قانونی راستے: پوائنٹس سسٹم کی مکمل گائیڈ
تصویر: Diliff — CC BY-SA 3.0، بذریعہ Wikimedia Commons

Seasonal Worker ویزا — کھیتوں کا چھ ماہی کام

پھل، سبزی اور پھولوں کی کاشت کے لیے چھ ماہ تک کا ویزا موجود ہے۔ اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ درخواست صرف حکومت کے منظور شدہ آپریٹرز کے ذریعے ہوتی ہے، براہِ راست، مفت یا برائے نام فیس پر۔

اس ایک جملے کو سمجھ لیں تو ایک پورا فراڈ خود ہی سمجھ آ جاتا ہے۔ جو ایجنٹ اس ویزے کے لاکھوں روپے مانگے، وہ یا تو آپ کو وہ چیز بیچ رہا ہے جو آپریٹر کی اپنی ویب سائٹ پر مفت رکھی ہے، یا سرے سے ایک جعلی آفر دے رہا ہے۔

دوسری بات جو اکثر چھپائی جاتی ہے: یہ ویزا مستقل رہائش کی طرف نہیں لے جاتا۔ چھ ماہ بعد واپسی لازم ہے۔ اور جو واپس نہیں آتے، وہ چند مہینوں کی کمائی کے بدلے اپنے لیے برطانیہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر لیتے ہیں۔

فیملی ویزا

یہ راستہ برطانوی شہری یا سیٹلڈ شخص کے شریکِ حیات کے لیے ہے۔ بلانے والے کی کم از کم آمدنی کی حد اب تقریباً £29,000 کے لگ بھگ ہے، اور اسے مزید بڑھانے کی تجاویز زیرِ بحث رہی ہیں۔ ساتھ میں انگریزی کا ثبوت اور اس بات کے ثبوت درکار ہیں کہ رشتہ حقیقی ہے — تصویریں، پیغامات، سفر کا ریکارڈ، مشترکہ ذمہ داریاں۔

یہ حد بہت سے سچے جوڑوں کے لیے تکلیف دہ ہے اور اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ مگر اس تکلیف کا جواب جعلی شادی نہیں ہے۔ یہ دھندا موجود ہے، اس پر سختی سے نظر رکھی جاتی ہے، اور جب پکڑا جاتا ہے تو دونوں فریقوں کی زندگی خراب کرتا ہے — بلانے والے کی بھی، جو اکثر خود کو محفوظ سمجھ رہا ہوتا ہے۔

باقی راستے

ان کے علاوہ چند مخصوص دروازے ہیں جو ہر ایک کے لیے نہیں، مگر جن پر اہل لوگ نظر ڈالے بغیر گزر جاتے ہیں:

  • Health and Care ویزا: ڈاکٹروں، نرسوں اور بعض طبی عملے کے لیے کھلا ہے۔ کیئر ورکرز کے لیے بیرونِ ملک سے بھرتی، جیسا اوپر لکھا، بند ہو چکی ہے۔
  • Global Talent: ان کے لیے جن کی غیر معمولی صلاحیت ثابت شدہ ہے — ریسرچ، ٹیکنالوجی، فنون۔ یہاں دعویٰ نہیں، ریکارڈ دیکھا جاتا ہے۔
  • Innovator Founder: منظور شدہ اور قابلِ عمل کاروباری منصوبے والوں کے لیے۔

اور ایک چیز جو راستہ نہیں ہے مگر جسے راستہ سمجھ لیا جاتا ہے: وزٹ ویزا کام کے لیے نہیں ہے۔ وزٹ پر جا کر کام کرنا یا وہیں رک جانا برطانیہ میں وہ فیصلہ ہے جس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ کیوں، یہ اگلے حصے میں۔

برطانیہ (UK) جانے کے قانونی راستے: پوائنٹس سسٹم کی مکمل گائیڈ
تصویر: DaniKauf — CC BY-SA 3.0، بذریعہ Wikimedia Commons

بغیر کاغذات برطانیہ — پوری سچائی

یہ حصہ سب سے تلخ ہے اور اسی لیے سب سے ضروری۔

برطانیہ میں عام معافی نہیں، اور اسپین کے Arraigo جیسا کوئی انتظام نہیں۔ لمبی رہائش کی بنیاد پر جو راستہ موجود ہے — private life route — وہ عام طور پر بیس سال جیسی مدتوں کا ہے۔ ایک لمحے کو رک کر سوچیں کہ اس جملے کا مطلب کیا ہے۔ پچیس سال کی عمر میں پہنچنے والا شخص پینتالیس سال کی عمر میں پہلی بار قانونی حیثیت کی درخواست دینے کے قابل ہوتا ہے — اور اس دوران وہ نہ اپنے گھر جا سکتا ہے، نہ اپنے والدین کے جنازے میں شریک ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی منصوبہ نہیں، جوانی کی قربانی ہے۔

ان بیس سالوں کی روزمرہ زندگی کیسی ہوتی ہے، یہ بھی جان لیجیے۔ برطانیہ کی "hostile environment” پالیسی کا مقصد ہی یہ ہے کہ بغیر کاغذات رہنا عملاً ناممکن ہو جائے۔ قانونی کام نہیں مل سکتا۔ بینک اکاؤنٹ نہیں کھلتا۔ مکان کرائے پر لیتے ہوئے مالک کاغذات چیک کرنے کا پابند ہے۔ علاج کے بل الگ سے آ سکتے ہیں۔ اور غیر قانونی کام کرتے پکڑے جانے پر مالک کو بھاری جرمانہ ہوتا ہے اور کارکن کو گرفتاری اور ملک بدری کا سامنا۔ یعنی جو آجر آپ کو چھپا کر رکھے گا، وہ خود آپ سے زیادہ خوفزدہ ہو گا — اور اسی خوف کی وجہ سے وہ آپ کو کم سے کم اجرت پر رکھے گا۔

چھوٹی کشتیوں کے ذریعے چینل پار کرنے والوں کے لیے قوانین ہر سال مزید سخت ہو رہے ہیں۔ پناہ کا نظام سالوں کے بیک لاگ میں پھنسا ہوا ہے، اور اس دوران زندگی ہوٹلوں اور کیمپوں میں، مکمل بے یقینی کے ساتھ گزرتی ہے۔ اور پناہ صرف سچی بنیاد پر ملتی ہے — جان کا خطرہ، مذہبی یا سیاسی بنیاد پر ظلم۔ معاشی مجبوری، خواہ کتنی ہی حقیقی ہو، پناہ کی بنیاد نہیں بنتی، اور مسترد کیس آپ کے اپنے آئندہ راستے بھی تنگ کر دیتا ہے۔

اسی لیے یہ بات پوری صراحت سے: برطانیہ کے معاملے میں "پہنچ کر دیکھیں گے” والی سوچ ایک خاندان کی سب سے مہنگی غلطی ہے۔ جو رقم اس سفر پر لگتی ہے، وہ اکثر پڑھائی کے ویزے یا کسی اور ملک کے قانونی راستے سے زیادہ ہوتی ہے — اور اس کے بدلے میں جو ملتا ہے وہ ایک ایسی زندگی ہے جس کا کوئی اختتام مقرر نہیں۔ یا قانونی ویزا، یا کوئی اور ملک۔ یہ مشورہ کڑوا ہے، مگر جھوٹی تسلی سے سستا ہے۔

سرکاری ویب سائٹ — اور صرف ایک

برطانیہ کے معاملے میں ایک آسانی ضرور ہے۔ ہر ویزا کیٹگری، ہر شرط، ہر فیس اور ہر فارم ایک ہی جگہ موجود ہے: gov.uk۔ درخواستیں بھی وہیں سے آن لائن جمع ہوتی ہیں۔

اس سے ایک سادہ اصول نکلتا ہے جو آپ کو بہت سے نقصانات سے بچا سکتا ہے: جو معلومات gov.uk پر نہیں ہے، وہ افواہ ہے۔ چاہے کتنے ہی یقین سے سنائی جائے، اور چاہے سنانے والا کتنا ہی اپنا کیوں نہ ہو۔ اور چونکہ برطانیہ کی تنخواہ اور آمدنی کی حدیں تیزی سے بدلتی ہیں، اوپر لکھے سب اعداد کو تقریبی سمجھیں اور تازہ عدد وہیں سے دیکھیں۔

یہ تحریر آپ کو نظام کی اصل تصویر دکھانے کے لیے لکھی گئی ہے، اور یہ قانونی مشورہ نہیں ہے۔ برطانیہ کے امیگریشن قوانین اور آمدنی کی حدیں غیر معمولی رفتار سے بدلتی ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ اوپر دی گئی کوئی تفصیل آپ کے پڑھنے تک پرانی ہو چکی ہو۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے gov.uk پر تازہ اصول دیکھ لیں، اور اپنے کیس کی نوعیت پیچیدہ ہو تو کسی OISC رجسٹرڈ امیگریشن ایڈوائزر یا وکیل سے بات کریں۔

خبرنامہ
خبرنامہhttps://habarnama.com
خبرنامہ کی ادارتی ٹیم — یورپ میں امیگریشن، ویزا اور قانونی رہائش سے متعلق اردو میں مستند معلومات۔