اتوار کی وہ ویڈیو کال، جس کا انتظار سارا ہفتہ رہتا ہے۔ بچہ اسکرین کے قریب آ کر پوچھتا ہے، "ابو، آپ کب آئیں گے؟” اور آپ کے پاس ہر بار وہی ایک جواب ہوتا ہے — "بس تھوڑا سا اور”۔ پھر کال کٹ جاتی ہے اور کمرے میں وہی خاموشی رہ جاتی ہے۔
یہ تکلیف اُس شخص کو سمجھ نہیں آتی جس نے کبھی برداشت نہ کی ہو۔ آپ پیسے بھیج رہے ہیں، گھر چل رہا ہے، سب "ٹھیک” ہے — مگر بچہ آپ کے بغیر بڑا ہو رہا ہے اور اس کے دو سال واپس نہیں آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسپین میں مقیم ہر شخص کے ذہن میں دیر سویر ایک ہی سوال آتا ہے: انہیں یہاں کیسے بلاؤں؟
قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس راستے کا نام ہے Reagrupación Familiar — یعنی خاندان کا دوبارہ اکٹھا ہونا۔ لیکن یہاں ایک بات پہلے دن سمجھ لینا بہتر ہے: یہ فیصلہ ہمدردی کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ دفتر میں بیٹھا اہلکار آپ کی جدائی نہیں دیکھتا، وہ تین چیزیں دیکھتا ہے — آپ کتنا عرصہ قانونی طور پر یہاں ہیں، آپ کی آمدنی کاغذ پر کتنی ہے، اور جس گھر میں آپ انہیں لا رہے ہیں وہ کیسا ہے۔ اس مضمون کا سارا مقصد یہی ہے کہ ان تینوں کا سامنا آپ تیاری کے ساتھ کریں۔
پہلی شرط: ایک سال کا انتظار
اسپین پہنچتے ہی خاندان کو نہیں بلایا جا سکتا۔ آپ کے پاس اسپین کی رہائش ہونی چاہیے اور آپ کم از کم ایک سال قانونی طور پر یہاں رہ چکے ہوں۔ اس کے ساتھ ایک اور شرط جُڑی ہے: آپ کے پرمٹ کی تجدید ہو چکی ہو، یا کم از کم تجدید کی درخواست جمع ہو چکی ہو۔
عملی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سال کے دوران عام طور پر یہ دروازہ بند رہتا ہے، اور پہلی تجدید کے ساتھ یا اس کے بعد کھلتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ نہ جانتے ہوئے جلدی میں فائل لگا دیتے ہیں، فیس دیتے ہیں، کاغذوں پر مہینوں محنت کرتے ہیں اور پھر انکار سنتے ہیں۔ جن کے پاس لمبی مدت کی رہائش (larga duración) ہے یا EU Blue Card ہے، ان کے لیے شرائط قدرے نرم ہیں۔
تو اگر آپ کا پہلا سال ابھی پورا نہیں ہوا، تو یہ انتظار ضائع نہ کریں۔ یہی وہ سال ہے جس میں کنٹریکٹ مضبوط کرنا ہے، تنخواہ کاغذ پر لانی ہے، بہتر گھر ڈھونڈنا ہے اور پاکستان سے کاغذات کی تصدیق شروع کروانی ہے۔ جو لوگ اس سال کو تیاری میں لگاتے ہیں، ان کی فائل بعد میں ایک ہی بار میں گزر جاتی ہے۔
کسے بلایا جا سکتا ہے — اور کسے نہیں
یہ وہ حصہ ہے جہاں سب سے زیادہ دل ٹوٹتے ہیں، اس لیے صاف بات لکھ رہے ہیں۔ قانون نے دائرہ محدود رکھا ہے:
- شریکِ حیات — بیوی یا شوہر، اور رجسٹرڈ پارٹنر بھی۔ ایک وقت میں صرف ایک؛ ایک سے زیادہ شادیوں کی صورت میں صرف ایک شریکِ حیات کو بلایا جا سکتا ہے۔
- بچے — 18 سال سے کم عمر۔ معذوری کی صورت میں بڑی عمر کے بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
- والدین — صرف اُس صورت میں جب ان کی عمر 65 سال سے زیادہ ہو، اور یہ ثابت ہو کہ وہ آپ پر مالی طور پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی وجوہات موجود ہیں۔
اب اس کا دوسرا رخ۔ اٹھارہ سال سے اوپر کے صحت مند بچے اس راستے سے نہیں آ سکتے — نہ بیٹا، نہ بیٹی، چاہے وہ آپ کے ساتھ ہی کیوں نہ رہنا چاہتے ہوں۔ یہ سب سے عام غلط فہمی ہے اور اکثر گھروں میں اسی پر امیدیں باندھی جاتی ہیں۔ اسی طرح پینسٹھ سال سے کم عمر والدین عام حالات میں نہیں بلائے جا سکتے، چاہے وہ اکیلے ہوں، بیمار ہوں یا آپ ہی ان کا واحد سہارا ہوں۔
پینسٹھ سال سے اوپر والے والدین کا راستہ کاغذ پر موجود ضرور ہے، مگر عملاً یہ سب سے مشکل کیٹگری ہے — انحصار ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لمبی مدت کی رہائش رکھنے والوں کے لیے یہ نسبتاً کم مشکل ہے۔ بالغ اولاد کے لیے حقیقت پسندانہ راستہ اسٹڈی ویزا یا ورک ویزا ہے، فیملی ری یونین نہیں؛ بہتر ہے کہ ابھی سے اُس سمت میں سوچا جائے، بجائے اس کے کہ برسوں غلط دروازے پر انتظار ہو۔

آمدنی — اصل رکاوٹ یہی ہے
حکومت کا سوال سادہ ہے: کیا آپ ان لوگوں کو پال سکتے ہیں جنہیں آپ بلا رہے ہیں؟ اور اس کا جواب آپ کی محنت سے نہیں، آپ کے کاغذات سے دیا جاتا ہے۔ پیمانے کا نام IPREM ہے — ایک سرکاری حسابی اکائی جس سے اسپین میں آمدنی کی حدیں ناپی جاتی ہیں۔
- ایک فرد کو بلانے کے لیے (مثلاً صرف بیوی): تقریباً IPREM کا 150% — موٹا اندازہ 900 یورو ماہانہ کے لگ بھگ۔
- ہر اضافی فرد پر تقریباً 50% IPREM مزید — یعنی بیوی اور دو بچوں کے لیے موٹا اندازہ 1,500 یورو ماہانہ سے اوپر کی مستقل آمدنی۔
یہ رقمیں تقریبی ہیں اور IPREM ہر سال بدلتا ہے، اس لیے درخواست کے وقت کی درست رقم سرکاری ویب سائٹ سے ضرور دیکھ لیں۔ لفظ "مستقل” پر بھی غور کیجیے — ایک اچھے مہینے کی تنخواہ کافی نہیں، دفتر یہ دیکھتا ہے کہ آمدنی آگے بھی چلتی رہے گی یا نہیں۔ ثبوت کنٹریکٹ، تنخواہ کی رسیدوں (nóminas) اور ٹیکس ریٹرن سے آتا ہے۔
اور یہاں وہ بات جو ہمارے لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے: کالے کام کی آمدنی شمار نہیں ہوتی۔ آپ ہفتے میں ساٹھ گھنٹے لگاتے ہوں اور ہاتھ میں اچھی خاصی رقم آتی ہو، مگر اگر وہ کنٹریکٹ اور رسید پر نہیں ہے تو فائل کے لیے اس کا وجود ہی نہیں۔ بہت سے لوگ جو برسوں سے سخت محنت کر رہے ہیں، صرف اس ایک وجہ سے اپنے بچوں کو نہیں بلا پاتے۔ باقاعدہ کنٹریکٹ کی اصل قیمت یہی ہے، تنخواہ کے چند یورو کم زیادہ نہیں۔
گھر کی رپورٹ — informe de vivienda adecuada
آمدنی کے بعد دوسرا سوال گھر کا ہے۔ آپ کو دکھانا ہوتا ہے کہ جس جگہ آپ خاندان کو لا رہے ہیں، وہ خاندان کے رہنے کے قابل ہے۔ بلدیہ یا صوبے کا متعلقہ ادارہ گھر کا معائنہ کر کے مناسب رہائش کی رپورٹ جاری کرتا ہے، جس میں کمروں کی تعداد، ان کی حالت اور پہلے سے رہنے والوں کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ چھ سات آدمیوں کے ساتھ شیئر کیے ہوئے ایک کمرے پر یہ رپورٹ نہیں ملتی۔ اسی مرحلے پر بہت سی فائلیں رکتی ہیں، کیونکہ لوگ باقی سب کچھ تیار کر لیتے ہیں اور رہائش کا معاملہ آخر پر چھوڑ دیتے ہیں۔ گھر بدلنے میں وقت لگتا ہے، ڈپازٹ لگتا ہے اور مالک مکان کا کنٹریکٹ آپ کے نام پر ہونا ہوتا ہے — یہ کام درخواست سے مہینوں پہلے شروع کریں، بعد میں نہیں۔
عمل — قدم بہ قدم
پورا سلسلہ دو ملکوں میں چلتا ہے: آدھا کام آپ اسپین میں کرتے ہیں، آدھا آپ کے گھر والے پاکستان میں۔ ترتیب یہ ہے:
- اسپین میں درخواست: بلانے والا یعنی آپ، اپنے صوبے کی Extranjería میں فائل جمع کراتے ہیں — آمدنی کے کاغذات، رہائش کی رپورٹ، اور رشتے کے کاغذات (نکاح نامہ، بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ) مصدقہ اور ترجمہ شدہ صورت میں۔
- فیصلہ: عام طور پر چند مہینوں میں آ جاتا ہے۔ منظوری کی صورت میں اگلا مرحلہ آپ کے گھر والوں کا ہے۔
- ویزا: منظوری کے بعد دو ماہ کے اندر آپ کے اہلِ خانہ اپنے ملک میں اسپین کے سفارت خانے یا قونصل خانے میں ویزے کی درخواست دیتے ہیں۔ یہاں رشتے کی تصدیق دوبارہ ہوتی ہے اور انٹرویو بھی ہو سکتا ہے۔ یہ دو ماہ کی مہلت ضائع نہ ہونے دیں۔
- اسپین آمد اور TIE: پہنچنے کے ایک ماہ کے اندر رہائشی کارڈ (TIE) کے لیے فنگر پرنٹ کی اپائنٹمنٹ لینی ہوتی ہے۔

پاکستان کی طرف کا کام — یہ سب سے پہلے شروع کریں
تجربہ بتاتا ہے کہ فائل اسپین میں کم، اور اپنے ملک کے کاغذات پر زیادہ لٹکتی ہے۔ تصدیق اور ترجمے میں ہفتے لگ جاتے ہیں، اور یہ کام دور بیٹھ کر کروانا اور بھی سست ہوتا ہے۔ اس لیے یہ فہرست پہلے دن نکال کر رکھ لیں:
- نکاح نامہ اور بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ نادرا یا یونین کونسل سے، انگریزی میں۔
- ان کاغذات پر تصدیق — اپوسٹیل یا سفارت خانے کی تصدیق، جیسا کہ اُس وقت کا طریقہ ہو۔
- ہسپانوی میں مصدقہ ترجمہ (traducción jurada) — عام ترجمہ قبول نہیں ہوتا۔
- ہر کاغذ پر ناموں کی spelling ایک جیسی — پاسپورٹ، نکاح نامہ اور برتھ سرٹیفکیٹ میں فرق فائل کو مہینوں لٹکا دیتا ہے۔
نام کے ہجوں والا نکتہ معمولی لگتا ہے مگر ہمارے ہاں سب سے زیادہ یہی خرابی نکلتی ہے — کہیں "Muhammad”، کہیں "Mohammad”، کہیں والد کا نام درمیان میں، کہیں غائب۔ اسپین کا نظام ناموں کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اگر فرق موجود ہے تو اسے پاکستان ہی میں درست کروائیں، اس امید پر فائل نہ لگائیں کہ شاید کسی کی نظر نہ پڑے۔
وہ غلطیاں جو فائل ڈبو دیتی ہیں
مسترد ہونے والی زیادہ تر درخواستیں کسی پیچیدہ قانونی نکتے پر نہیں گرتیں، بلکہ چند بار بار دہرائی جانے والی غلطیوں پر۔ سب سے پہلی، پہلی تجدید سے پہلے ہی درخواست دے دینا۔ دوسری، آمدنی کا کاغذ پر کم ہونا — اوور ٹائم اور کیش والا کام گنتی میں نہیں آتا، چاہے آپ کے ہاتھ میں کتنا ہی آتا ہو۔ تیسری، رہائش کی رپورٹ کے بغیر فائل جمع کرا دینا اس امید پر کہ بعد میں لگا دیں گے۔
چوتھی، دستاویزات پر ناموں کا فرق یا ترجمے کا مصدقہ نہ ہونا۔ اور پانچویں، جو سب سے تکلیف دہ ہے: ویزا کے مرحلے پر انٹرویو میں رشتے کی تفصیل میں تضاد۔ شادی کی تاریخ، گھر کے افراد، ایک دوسرے کے معمولات — اگر دونوں طرف کے جواب نہیں ملتے تو شک پیدا ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ رٹا نہیں، بس یہ ہے کہ انٹرویو سے پہلے دونوں فریق کاغذات کی تفصیل ایک بار مل کر دیکھ لیں تاکہ تاریخیں اور نام ذہن میں واضح ہوں۔
وہ پہنچ جائیں تو کیا حقوق ہوں گے؟
یہ حصہ خوش کن ہے اور بہت سے لوگ اس سے واقف نہیں۔ آپ کے شریکِ حیات کو رہائش کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی ملتی ہے — الگ سے کوئی ورک پرمٹ نہیں لینا پڑتا۔ یعنی گھر میں دوسری آمدنی کا دروازہ پہلے دن سے کھلا ہے، اور یہ آگے آنے والی تجدیدوں میں آپ کی فائل کو مضبوط بھی کرتا ہے۔
بچے اسکول جائیں گے اور صحت کے نظام میں شامل ہوں گے۔ یاد رکھنے والی بات صرف یہ ہے کہ خاندان کے پرمٹ کی مدت بلانے والے کے پرمٹ سے جڑی ہوتی ہے — آپ کا کارڈ ٹوٹے گا تو ان کا بھی متاثر ہوگا۔ اس لیے تجدید وقت پر کرانا اب صرف آپ کا نہیں، پورے گھر کا معاملہ بن جاتا ہے۔
ایک آسان راستہ: اگر بلانے والا اسپینش شہری ہو
اگر آپ کو اسپین کی شہریت مل چکی ہے تو خاندان کے لیے بالکل الگ اور نسبتاً آسان نظام لاگو ہوتا ہے (EU family regime یا arraigo familiar) — آمدنی کی شرائط نرم اور عمل تیز۔ فرض کریں دو آدمی ایک ہی سال اسپین آئے: ایک نے دس سال بعد شہریت لے لی، دوسرا رہائشی کارڈ پر ہی رہا۔ خاندان بلانے کے معاملے میں ان دونوں کے سامنے آج ایک جیسی دیوار نہیں ہے۔
اس کا سبق یہ نہیں کہ خاندان بلانے کے لیے شہریت کا انتظار کریں — دس سال بہت لمبا عرصہ ہے اور بچے اتنی دیر نہیں کر سکتے۔ سبق یہ ہے کہ رہائشی کارڈ کو کبھی ٹوٹنے نہ دیں، کیونکہ وہی سلسلہ آگے چل کر آپ کے پورے خاندان کے لیے دروازے کھولتا ہے۔
سرکاری روابط — تازہ شرائط یہیں سے دیکھیں
- فیملی ری یونین کے سرکاری فارم اور شرائط: inclusion.gob.es
- اپائنٹمنٹ (Cita Previa): sede administración
- سفارت خانے اور ویزا کی معلومات: exteriores.gob.es
یہاں دی گئی رقمیں اور مدتیں تقریبی ہیں اور وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں — خاص طور پر IPREM کی حد ہر سال نئی ہوتی ہے۔ یہ تحریر آپ کو نظام سمجھانے کے لیے ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ خاندان کی فائل ایک بار مسترد ہو جائے تو دوبارہ بنانے میں مہینے لگ جاتے ہیں، اس لیے جمع کرانے سے پہلے تازہ شرائط اوپر دی گئی سرکاری ویب سائٹ سے دیکھ لیں یا اپنی فائل کسی رجسٹرڈ امیگریشن وکیل کو دکھا لیں۔