واٹس ایپ پر ایک پی ڈی ایف آتی ہے۔ اوپر کسی برطانوی کمپنی کا لوگو، نیچے آپ کا نام، درمیان میں تنخواہ لکھی ہوئی — سرکاری حد سے بس ذرا سی اوپر۔ ساتھ پیغام: "CoS تیار ہے، بیس لاکھ لگیں گے، سیٹیں محدود ہیں۔” اور اگلے دو دن میں گھر میں یہ بحث چل رہی ہوتی ہے کہ رقم کہاں سے آئے گی۔
یہ منظر برصغیر کے ہر شہر میں روز دہرایا جا رہا ہے۔ Skilled Worker ویزا برطانیہ کا مرکزی ورک ویزا ہے، اور اسی وجہ سے یہ اِس وقت جاری سب سے بڑے امیگریشن فراڈ کا میدان بھی ہے۔ "سرٹیفکیٹ آف سپانسرشپ” کے نام پر لاکھوں روپے لُٹ رہے ہیں، اور لُٹنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے پاس اصل میں ہنر موجود ہے — بس معلومات نہیں۔
اس لیے پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ نظام چلتا کیسے ہے۔ جس دن آپ کو یہ سمجھ آ گیا، اُس دن جعلی آفر پہچاننے کے لیے آپ کو کسی کی رائے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
پوری عمارت ایک ہی ستون پر کھڑی ہے: سپانسرشپ
برطانیہ میں کام کا ویزا آپ اپنے زور پر نہیں لے سکتے۔ وہ آپ کو صرف ایک لائسنس یافتہ سپانسر کمپنی دلوا سکتی ہے۔ ایسی کمپنیوں کا سرکاری رجسٹر gov.uk پر موجود ہے اور مفت کھلتا ہے — کوئی بھی، کسی بھی وقت، کمپنی کا نام اس میں دیکھ سکتا ہے۔
عمل یہ ہے کہ کمپنی آپ کو نوکری دیتی ہے اور آپ کے نام CoS جاری کرتی ہے — Certificate of Sponsorship، جو دراصل ایک الیکٹرانک ریفرنس نمبر ہے، کوئی خوبصورت چھپا ہوا سرٹیفکیٹ نہیں۔ اس نمبر کے ساتھ آپ ویزے کی درخواست دیتے ہیں: CoS، انگریزی کا ثبوت (B1 سطح)، مالی ثبوت، اور کریکٹر و TB سرٹیفکیٹ۔
غور کریں کہ اس پورے سلسلے میں CoS نوکری کے بعد آتا ہے، پہلے نہیں۔ اسی ایک بات میں آدھا فراڈ ننگا ہو جاتا ہے، کیونکہ ایجنٹ آپ کو CoS پہلے بیچتا ہے اور نوکری کا ذکر بعد میں کرتا ہے — یا کبھی نہیں کرتا۔
نوکری اور تنخواہ کے اصول
ہر نوکری اس ویزے کے لیے کارآمد نہیں۔ کام کو منظور شدہ ہنر کی سطح کا ہونا چاہیے، اور اس کی فہرست سرکاری ہے۔ تنخواہ کی عمومی حد £38,700 کے لگ بھگ ہے۔ کچھ صورتوں میں یہ حد کم ہوتی ہے — کمی والے پیشوں کی Immigration Salary List، نئے گریجویٹس، اور بعض مخصوص کیٹگریز۔ عین نمبر ہر سال بدلتے ہیں، اس لیے انہیں کسی مضمون سے نہیں، gov.uk سے لیں۔
اب دو باتیں جو خاص طور پر ہمارے لوگوں سے متعلق ہیں۔
کیئر ورکر روٹ بند ہو چکا ہے۔ بیرونِ ملک سے نئے کیئر ورکرز کی بھرتی اب نہیں ہو رہی۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ پچھلے چند سالوں میں سب سے زیادہ لوگ اسی راستے سے گئے اور سب سے زیادہ فراڈ بھی اسی نام پر ہوا۔ آج بھی اگر کوئی آپ کو "کیئر ویزا” بیچ رہا ہے تو دو ہی امکان ہیں: یا وہ پرانا مال بیچ رہا ہے، یا سیدھا فراڈ کر رہا ہے۔ تیسرا کوئی امکان نہیں۔
ڈاکٹر اور نرسیں الگ روٹ پر ہیں۔ بعض طبی پیشے Health and Care ویزے پر آتے ہیں، جہاں فیس کم ہے اور IHS معاف ہے۔ مگر یہ روٹ خالص پیشہ ور طبی عملے کے لیے ہے — اسے عام ورک ویزے کا پچھلا دروازہ سمجھنا غلطی ہے۔

خرچہ کتنا ہے، اور کون ادا کرتا ہے — یہ فرق یاد رکھیں
خرچے دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور یہی تقسیم فراڈ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
جو آپ ادا کرتے ہیں: ویزا فیس (سینکڑوں پاؤنڈ میں) اور IHS یعنی ہیلتھ سرچارج، جو تقریباً £1,035 فی سال ہے اور ویزے کے کل سالوں سے ضرب کھاتا ہے۔ خاندان ساتھ ہو تو ہر فرد پر الگ لگتا ہے۔
جو کمپنی ادا کرتی ہے: سپانسر لائسنس کی فیس، CoS کی فیس، اور Immigration Skills Charge۔ یہ قانوناً کمپنی کے ذمے ہیں، اور ان میں سے کئی چیزیں امیدوار سے وصول کرنا ممنوع ہے۔
اور اب اس مضمون کی سب سے اہم سطر: CoS بیچنا اور خریدنا برطانیہ میں جرم ہے۔ جس "آفر” کے بدلے آپ سے پندرہ سے پچیس لاکھ روپے مانگے جا رہے ہیں، وہ نوکری نہیں ہے۔ وہ دو میں سے ایک چیز ہے: یا جعلی کاغذ، یا ایسی کمپنی جس کا لائسنس کل منسوخ ہونے والا ہے۔
لائسنس منسوخ ہونے کا مطلب سمجھ لیں، کیونکہ لوگ اسے کمپنی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ وہ کمپنی کا نہیں، ورکر کا مسئلہ ہے۔ جس دن سپانسر کا لائسنس گیا، اُس کے تمام ورکرز کے ویزے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہزاروں لوگوں کے ساتھ ہو چکا ہے، خاص طور پر کیئر سیکٹر میں — اور ان میں بہت سے وہ تھے جنہوں نے اسی "نوکری” کے لیے زمین بیچی تھی۔ رقم بھی گئی، ویزا بھی گیا، اور واپسی پر بتانے کو کچھ نہ بچا۔
جعلی آفر پہچاننے کے پانچ سوال
یہ وہ فہرست ہے جو ہر آفر پر، بغیر جذبات کے، ایک ایک کر کے چلانی چاہیے۔ اگر ایک بھی جواب غلط آئے تو بات وہیں ختم کریں۔
- کیا کمپنی کا نام حکومت کے سرکاری سپانسر رجسٹر میں موجود ہے؟ یہ gov.uk پر مفت چیک ہوتا ہے اور اس میں پانچ منٹ لگتے ہیں۔
- Companies House پر کمپنی کی عمر، دفتر اور فائلنگز کیا کہتی ہیں؟ چھ ماہ پرانی، ایک کمرے کی کمپنی جو پچاس ویزے "بیچ” رہی ہو — یہ اپنی کہانی خود سنا دیتی ہے۔
- کیا آپ کا انٹرویو ہوا؟ اصلی کمپنی امیدوار کو جانچے بغیر CoS جاری نہیں کرتی۔ اسے آپ کا کام چاہیے، آپ کا پاسپورٹ نہیں۔
- کیا CoS یا نوکری کے پیسے مانگے گئے؟ اصلی آجر امیدوار سے یہ پیسے نہیں لیتا۔ پیسوں کا مطالبہ بذاتِ خود فراڈ کی علامت ہے، اس کی رقم کچھ بھی ہو۔
- آفر لیٹر کیسا ہے؟ واٹس ایپ پر آئی ہوئی پی ڈی ایف، تنخواہ حد سے بس ذرا اوپر، کام کی جگہ مبہم — یہ کلاسک جعلی نمونہ ہے، اور یہ ہر بار تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔
ایک اور بات۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ "کمپنی سے خود رابطہ مت کرنا، سارا معاملہ ہمارے ذریعے ہو گا” — تو یہی جواب کافی ہے۔ اصلی نوکری میں آجر اور ملازم کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
ویزا مل جائے تو آپ کے حقوق کیا ہیں
یہ حصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو پہنچ چکے ہیں، اور یہ اکثر کسی نے انہیں نہیں بتایا ہوتا۔
آپ اسی سپانسر کے پاس، اسی نوکری میں کام کے پابند ہیں۔ نوکری بدلنی ہو تو نئے سپانسر کا نیا CoS اور ویزے کی اپ ڈیٹ درکار ہوتی ہے۔ اس پابندی کا فائدہ اٹھا کر کچھ آجر ورکر کو دبانے لگتے ہیں — تنخواہ مقررہ سے کم، گھنٹے مقررہ سے زیادہ، اور ساتھ میں یہ دھمکی کہ "شکایت کرو گے تو ویزا چلا جائے گا”۔
یہ دھمکی جھوٹی ہے۔ استحصال کی صورت میں رپورٹ کے راستے موجود ہیں، اور دوسرا سپانسر ڈھونڈنا آپ کا قانونی حق ہے۔ جو چیز آپ کو واقعی نقصان پہنچاتی ہے وہ خاموشی سے کیش پر "سائیڈ کام” کرنا ہے — یہ ویزے کی صریح خلاف ورزی ہے، اور اس میں سزا آجر کو نہیں، آپ کو ملتی ہے۔
اور اگر نوکری چھوٹ جائے تو نیا سپانسر ڈھونڈنے کے لیے محدود مہلت ملتی ہے۔ محدود کا مطلب محدود ہے۔ اس دن انتظار نہ کریں — اسی ہفتے قانونی مشورہ لیں۔

مستقل رہائش تک کا راستہ
Skilled Worker پر پانچ سال مکمل کرنے کے بعد — تنخواہ کی شرط پوری رکھتے ہوئے — ILR یعنی Indefinite Leave to Remain کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ Life in the UK ٹیسٹ اور انگریزی کی شرط آتی ہے۔ حکومتی تجاویز میں یہ مدت بڑھانے کی بات بھی چلتی رہی ہے، اس لیے موجودہ اصول دیکھتے رہنا ضروری ہے۔
ILR ملنے کے بارہ ماہ بعد شہریت کی درخواست ممکن ہو جاتی ہے۔
خاندان کے بارے میں: Skilled Worker اپنے شریکِ حیات اور بچوں کو dependant کے طور پر ساتھ لا سکتا ہے۔ یہ اچھی خبر ہے، مگر اس پر ایک حساب لگا لیں — ویزا فیس اور IHS ہر فرد پر الگ لگتا ہے، اور تین چار افراد کا کل خرچ اکثر لوگوں کے اندازے سے کہیں زیادہ نکلتا ہے۔ یہ جوڑ ٹکٹ خریدنے سے پہلے کر لیں، بعد میں نہیں۔
تو باہر بیٹھے شخص کے لیے اصلی راستہ کیا ہے؟
یہ سوال جائز ہے۔ اگر CoS خریدنا جرم ہے اور ایجنٹ جھوٹ بول رہا ہے، تو کرنا کیا چاہیے؟ جواب کم دلچسپ ہے مگر یہ کام کرتا ہے۔
پہلا کام اپنے ہنر کو برطانیہ کی اصل مانگ سے جوڑنا ہے۔ سپانسر کرنے والی کمپنیاں چند شعبوں میں مرکوز ہیں — آئی ٹی، انجینئرنگ، فنانس، ہیلتھ، اور ہنر مند ٹریڈز۔ اگر آپ کا ہنر ان میں نہیں آتا، تو پہلا قدم ویزے کی درخواست نہیں، ہنر کی ترقی ہے۔ یہ سننے میں سست لگتا ہے، مگر بیس لاکھ کے فراڈ سے پھر بھی تیز ہے۔
دوسرا کام سیدھی درخواستیں ہیں: کمپنیوں کی اپنی careers سائٹس، LinkedIn، اور Indeed UK — جہاں "visa sponsorship available” کا فلٹر موجود ہے۔ یہ محنت طلب کام ہے اور اس میں سینکڑوں درخواستیں دینی پڑتی ہیں۔ اسی محنت کو ایجنٹ ایک پی ڈی ایف کے بدلے بیچتا ہے۔
اور تیسرا، جو عملاً سب سے کامیاب راستہ ثابت ہوا ہے: پڑھائی کا پل۔ برطانیہ کی ڈگری، پھر Graduate visa کے دوران نوکری، پھر اسی نوکری کا سپانسرشپ میں بدل جانا۔ آجر کے سامنے آپ اُس وقت ایک ایسا امیدوار ہوتے ہیں جو پہلے سے ملک میں ہے، مقامی ڈگری رکھتا ہے اور جسے وہ آمنے سامنے دیکھ چکا ہے۔ اس پر ہمارا الگ اسٹوڈنٹ ویزا مضمون موجود ہے۔
جو بھی راستہ چنیں، ایک اصول نہ توڑیں: پیسے دے کر نوکری کبھی نہیں۔ اصلی نوکری میں پیسہ آجر سے ملازم کی طرف چلتا ہے۔ جس دن سمت اُلٹ جائے، سمجھ لیں کہ وہ نوکری نہیں تھی۔
یہ مضمون آپ کو نظام سمجھانے کے لیے لکھا گیا ہے، قانونی مشورے کے طور پر نہیں۔ برطانیہ میں تنخواہ کی حدیں اور ویزا روٹس غیر معمولی رفتار سے بدل رہے ہیں، اور یہاں دیے گئے اعداد اندازاً ہیں۔ ہر قدم gov.uk سے خود تصدیق کریں، اور ذاتی مشورہ صرف OISC رجسٹرڈ ایڈوائزر یا سالیسٹر سے لیں — ایجنٹ سے نہیں۔