spot_img

ذات صلة

جمع

علیم خان کا جنرل فیض حمید پر الزام، جہانگیر ترین نے غلام سرور خان کا خیرمقدم کیا

ٹیکسلا میں جمعرات کو استحکام پاکستان پارٹی کا جلسہ...

تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کی ہوشربا کرپشن

پاکستان تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے دوران...

میانوالی میں دہشتگرد حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

میانوالی میں 4 نومبر کو پاکستان ائیرفورس کے ٹریننگ...

اسحاق ڈار نے جنرل باجوہ سے اختلافات کی وجہ مالی مسائل بتائی

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سابق آرمی چیف...

محبوبہ نے عاشق کو قتل کروا دیا

پٹیالہ، 6 اکتوبر (اے پی پی): پنجاب کے شہر پٹیالہ میں ایک خاتون ڈاکٹر نے اُجرتی قاتل کی مدد سے ایک جج کو قتل کروایا۔

پولیس نے بتایا کہ خاتون ڈاکٹر رودیپ کور نے جج ہری سنگھ سے شادی کی تجویز دی تھی، جسے جج نے مسترد کر دیا تھا۔ اس پر رودیپ کور نے اُجرتی قاتل منجیت سنگھ کو 10 لاکھ روپے میں رقم دے کر جج کو قتل کرنے کے لیے کہا۔

منجیت سنگھ نے 25 اکتوبر 2005 کو جج ہری سنگھ کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بعد میں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

رودیپ کور نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جج ہری سنگھ سے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن ان کے انکار پر وہ غصے میں آ گئی اور انھیں قتل کروا دیا۔

یہ واقعہ ایک وقت میں پیش آیا جب بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں صدمہ اور غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

مزید تفصیلات:

  • خاتون ڈاکٹر رودیپ کور اور جج ہری سنگھ ایک دوسرے کو 2002 میں پہلی بار ملے تھے۔
  • دونوں کے درمیان قریبی دوستی تھی اور وہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے۔
  • جج ہری سنگھ نے رودیپ کور کی شادی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہیں۔
  • اس پر رودیپ کور نے اُجرتی قاتل منجیت سنگھ کو 10 لاکھ روپے میں رقم دے کر جج ہری سنگھ کو قتل کرنے کے لیے کہا۔
  • منجیت سنگھ نے 25 اکتوبر 2005 کو جج ہری سنگھ کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا۔
  • پولیس نے بعد میں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

نتائج:

  • اس واقعے نے پورے ملک میں صدمہ اور غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
  • حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔
  • اس واقعے نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کو بھی متحرک کیا۔
spot_imgspot_img