spot_img

ذات صلة

جمع

علیم خان کا جنرل فیض حمید پر الزام، جہانگیر ترین نے غلام سرور خان کا خیرمقدم کیا

ٹیکسلا میں جمعرات کو استحکام پاکستان پارٹی کا جلسہ...

تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کی ہوشربا کرپشن

پاکستان تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت کے دوران...

میانوالی میں دہشتگرد حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

میانوالی میں 4 نومبر کو پاکستان ائیرفورس کے ٹریننگ...

اسحاق ڈار نے جنرل باجوہ سے اختلافات کی وجہ مالی مسائل بتائی

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سابق آرمی چیف...

بھتہ خور گروہ لوگوں کو کیسے لُوٹتا تھا؟

کراچی پولیس نے حال ہی میں ایک بھتہ خور گروہ کو گرفتار کیا ہے، جو شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں سے بھتہ وصول کرتا تھا۔ یہ گروہ اپنے شکار کو مختلف طریقوں سے نشانہ بناتا تھا، جن میں شامل ہیں:

  • گاڑی روک کر: یہ گروہ اپنے شکار کی گاڑی کو روک دیتا تھا اور اس سے بھتہ طلب کرتا تھا۔ اگر شکار بھتہ دینے سے انکار کرتا تھا، تو گروہ اسے زخمی یا قتل کر سکتا تھا۔
  • فون کالز: یہ گروہ لوگوں کو فون کرتا تھا اور ان سے بھتہ طلب کرتا تھا۔ اگر شکار بھتہ دینے سے انکار کرتا تھا، تو گروہ اسے دھمکیاں دیتا تھا یا اس کے گھر یا کاروبار کو نقصان پہنچاتا تھا۔
  • سماجی میڈیا: یہ گروہ سماجی میڈیا پر لوگوں کے نام اور معلومات جمع کرتا تھا اور پھر ان سے بھتہ طلب کرتا تھا۔

یہ گروہ اپنے شکار سے بھتہ وصول کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنے شکار کو اپنے ساتھ کسی پرائیوٹ جگہ لے جاتے تھے اور وہاں سے اس سے بھتہ وصول کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ اپنے شکار سے پیسے جمع کروانے کے لیے کسی دوسرے شخص کو استعمال کرتے تھے۔

کراچی پولیس نے اس گروہ کے 10 ارکان کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے 7 کو عدالت نے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ گروہ کراچی میں گزشتہ کئی سالوں سے فعال تھا اور اس نے بہت سے لوگوں کو لُوٹا تھا۔

گروہ کے سرغنہ کا انکشاف

کراچی پولیس نے اس گروہ کے سرغنہ کی بھی شناخت کر لی ہے۔ اس کا نام محمد علی ہے اور وہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر کا رہائشی ہے۔ محمد علی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اس گروہ کو 2015 میں قائم کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی لوگوں سے بھتہ وصول کر کے اپنی زندگی گزارتے تھے۔

محمد علی نے پولیس کو بتایا کہ وہ لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے تھے۔ وہ لوگوں کی معلومات جمع کرتے تھے اور پھر ان سے رابطہ کر کے بھتہ طلب کرتے تھے۔ محمد علی نے بتایا کہ وہ لوگوں کو دھمکیاں بھی دیتے تھے تاکہ وہ بھتہ دینے سے انکار نہ کریں۔

کراچی پولیس کی کارروائی

کراچی پولیس نے اس گروہ کے خلاف ایک مہم شروع کی تھی۔ اس مہم میں پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور 10 ارکان کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس گروہ کے پاس سے بھتہ کے طور پر حاصل کیے گئے لاکھوں روپے بھی برآمد کیے ہیں۔

کراچی پولیس کے مطابق، یہ گروہ کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافے کا ایک اہم سبب تھا۔ اس گروہ کی گرفتاری سے کراچی میں جرائم کی شرح میں کمی آنے کی امید ہے۔

spot_imgspot_img