spot_img

ذات صلة

جمع

عمران خان اور اس کے ٹولے کو حکومت نہیں دی جاۓ گی، حکومتی فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے...

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا ہاتھوں فوجیوں اور عوام کا قتل عام

اکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کےعلاقے شمالی وزیرستان میں...

الیکشن تب ہوں گے جب نواز شریف فیصلہ کرے گا: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما مریم نواز...

پاکستان کو سری لنکا بنا دیں گے: شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیرداخلہ شیخ...

شہباز شریف کا پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے صاف انکار

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام کو سبسڈی...

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا ہاتھوں فوجیوں اور عوام کا قتل عام

اکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کےعلاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں تین فوجیوں اور بچوں سمیت کم از کم 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پہلا واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے عیدک میں اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ آور نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔

شمالی وزیرستان میں ہی صدر مقام میران شاہ میں گزشتہ شب ساڑھے نو بجے درپہ خیل کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں نیک ولی نامی ہوٹل کے نزدیک فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر جاری ہے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ہے۔

فوجی قافلے پر خود کش حملہ

شمالی وزیرستان

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں خود کش حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فوج کے تین اہلکار اس حملے میں ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں حوالدار زبیر قادر، سپاہی عزیر افسر اور سپاہی قاسم مقصود شامل ہیں۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق خودکش حملہ اس وقت کیا گیا جبکہ فوجی گاڑی پوسٹ سے باہر نکلی۔

خیال رہے کہ یہ خودکش حملہ گزشتہ روز شام چار بجے کے قریب ہوا۔

دھماکے میں سات سیکیورٹی اہلکار اور تین بچے زخمی ہوئے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں بچے ہلاک ہوئے۔ ان بچوں کی شناخت گیارہ سالہ احمد حسن، آٹھ سالہ احسن اور چار سال کی بچی انعم کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان اور مقامی صحافیوں نے بھی خودکش حملے میں ایک راہگیر بچے کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

حملے میں زخمی فوجی اہلکاروں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تاہم فی الحال کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد خان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں حملوں کا خطرہ ہے اور تھریٹ الرٹس آ رہے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز نے کچھ دن پہلے ہی ایک خودکش حملہ آور کو ہلاک کیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں ہی صدر مقام میران شاہ میں گزشتہ شب ساڑھے نو بجے درپہ خیل کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ بھی پیش آیا جس میں نیک ولی نامی ہوٹل کے نزدیک فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں گل نائب جان، نصر اللہ، غالب دین اور ذوالقرنین شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جب کہ واقعے میں ایک شخص زخمی ہوا۔ ۔

دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر جاری ہے اور افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سے محسود قبائل کے جرگے نے ملاقات کی ہے تاکہ سیزفائر کے معاہدے میں توسیع کی جا سکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق طالبان ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان وفد سے کابل میں ٹی ٹی پی کے قائدین کی ملاقات ہوئی ہے اور ایک بار پھر امن مذاکرات کا آغاز ہونے کا امکان ہے۔

ان کے مطابق دونوں جانب سے مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ ٹی ٹی پی کی جانب سے مزاکراتی ٹیم میں پہلے والے اراکین کے علاوہ چار مذید افراد شامل کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق سرکاری سطح پر طالبان سے مذاکرات کے وفد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ اس وفد میں قبائلی رہنما، علماء اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

مرکزی سطح پر غصہ ہے نہ ہی مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی وزیرستان واقعے کی مذمت کی ہے اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ہلاک شدگان کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں اور شہریوں کا خون ہم پر قرض ہے جو ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کی صورت میں چکایا جائے گا۔

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ شمالی وزیرستان میں پرتشدد حملے اور ٹارگٹڈ کلنگ جاری ہیں۔ مگر ان حملوں پر مرکزی سطح پر ‘نہ تو غصہ ہے نہ ہی مذمت کی جا رہی ہے۔’

شمالی وزیرستان میں تیزی سے خراب ہوتے حالات

شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے مقامی سینیئر صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر صفدر داوڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور مقامی افراد ایک بار پھر نقل مکانی کا سوچ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دہشتگردی کی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی سب سے زیادہ یہیں ہوئے ہیں۔ افغانستان کی جنگ کے معاملے پر بھی سب سے زیادہ نام شمالی وزیرستان کا نام ہی آتا رہا ہے لیکن یہاں خودکش حملے نسبتا کم ہوئے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ایدک کے مقام پر ایک بار پہلے بھی خودکش حملہ ہو چکا ہے۔ ‘اس حملے میں قبائلی مشران اور جرگے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کافی جانی نقصان ہوا تھا۔ اب حالات خراب ہو رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور عام طور پر اس کی زیادہ تر ذمہ داری ٹی ٹی پی لیتی ہے اور مزید کاروائیاں کرنے کی دھمکی دیتی ہے۔’

خیال رہے کہ گذشتہ برس افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے متعدد حلقوں کی جانب سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب افغانستان سے پاکستان میں حملوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگست 2022 کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان حکومت نے گذشتہ برس کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہتھیار پھینکنے کی صورت میں ان کے بیشتر شدت پسندوں کو قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس سلسلے میں افغان طالبان نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین میں جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے کرایا تاہم دونوں جانب سے کہا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ بغیر کسی نتیجے کے ٹوٹ چکا ہے جس کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا۔

تاہم حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر ایسی اطلاعات آئیں کہ دونوں جانب ایک بار پھر بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رواں ہفتے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی میں پانچ روز کی توسیع کی جو 15 مئی تک جاری رہے گی۔

تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے تصدیقی بیان میں کہا کہ فوج کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے اور اس کے لیے تحریری حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس بیان کے مطابق عید الفطر کے لیے کی گئی جنگ بندی میں پانچ روز کی توسیع کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ٹی ٹی پی کے ترجمان نے 29 اپریل کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 10 شوال تک جنگ بندی رہے گی۔

spot_imgspot_img